چندی گڑھ،24 /دسمبر(آئی این ایس انڈیا) ہریانہ میں وزیر اعلی منوہر لال کھٹر کو منگل کے روز سیاہ پرچم دکھایا گیاتھا۔ زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے کچھ کسانوں نے کھٹر کے قافلے کو روکنے کی کوشش کی تھی اور ان کی گاڑیوں پر لاٹھیاں پھینکی تھیں، جس کے بعد ہریانہ پولیس نے 13 کسانوں کے خلاف مختلف الزامات میں مقدمہ درج کیا، جس میں قتل کے لیے اکسانا اور فساد پھیلانا شامل تھا۔
کھٹر امبالا میں ایک تقریب میں پہنچے تھے، جہاں کسانوں کے ایک گروپ نے ان کی گاڑی روکنے کی کوشش کی تھی۔مبینہ طور پر کچھ کسانوں نے کھٹر کے قافلے کو روک لیا تھا اور وہ جانے نہیں دے رہے تھے، جس کے بعد پولیس کھٹر کو وہاں سے نکالنے میں کامیاب ہوگئی۔در اصل بلدیا تی انتخابات کی وجہ سے بی جے پی اور جے جے پی کے مشترکہ میئر امیدواروں اور کونسلرز کے لئے انتخابی تشہیر کرنے کے لئے منگل کو وزیر اعلی منوہر لال کھٹر، مرکزی وزیر مملکت رتن لال کٹاریہ امبالا کے پاس پہنچے۔ اس دوران وزیر اعلی کی امبالا کے کسانوں نے زرعی قوانین کے خلاف سخت مخالفت کی۔ پولیس انتظامیہ کو بھی جدوجہد کرنا پڑا۔ اس دوران کسانوں اور پولیس کے مابین نوک جھوک ہوئی۔اس کی معلومات دیتے ہوئے ڈی ایس پی مدن لال نے بتایا کہ منگل کے روز کچھ کسانوں نے ان کے قافلے کو روکنے کی کوشش کی جب وزیر اعلی یہاں ایک پروگرام میں شرکت کے لئے جارہے تھے۔ اس معاملے میں پولیس نے 13 کسانوں کے خلاف دفعہ 307 اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کرکے تفتیش شروع کردی ہے